پانا[1]

قسم کلام: فعل امدادی

معنی

١ - سکنا۔ 'کیا مجال کہ آدمی ٹھہرنے پائے۔"      ( ١٩٢٦ء، نوراللغات، ١٧:٢ ) ٢ - تکمیلِ فعل کے لیے۔  پنہاں تھا دام سخت قریب آشیان کے اڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے      ( ١٨٦٩ء، غالب، دیوان، ٢٢٦ ) ١ - موقع ملنا، میسر ہونا۔  اے برہمن کمال دغا کیش ہیں یہ بت پائیں تو گائے ذبح کریں سومنات میں      ( ١٨٣٦ء، ریاض البحر، ١٤٥ ) ١ - حاصل کرنا، لینا، وصول کرنا؛ اپنے قبضے میں کرنا، اپنے استعمال میں آنے کی حالت میں کرنا۔ 'تم نے کہاں پائے یہ بیس روپئے۔"      ( ١٩٣٢ء، میدانِ عمل، ١٥ ) ٢ - (کھوئی ہوئی یا غائب چیز کا) دستیاب ہونا، کسی کو دی ہوئی چیز واپس ملنا۔ 'یہ کتاب تم سے ہم نے تین برس کے بعد پائی ہے۔"      ( ١٩٦٩ء، شبدساگر، ٢٩٤٨:٦ ) ٣ - تاڑ لینا، بھید پا لینا، (کسی بات کو قرائن سے) بھانپ لینا، (کسی بات کی) تہہ تک پہنچنا۔  تجھ پہ فدا ہونے کو آئی ہے عیدالضحیٰ پا کے در پردہ یہ اِسمائے رسول عربی      ( ١٩٢٨ء، سرتاجِ سخن، ٨٤ ) ٤ - کسی شخص یا شئے تک پہنچنا، جا لینا، پاس پہنچ جانا۔ 'عشرت اور انیلاجیت کے نشان کے قریب پہنچ چکی تھیں کہ رام کلی اور پیاری نے انہیں پا لیا۔"      ( ١٩٥٤ء، شاید کہ بہار آئی، ٨٦ ) ٥ - نصیب ہونا، انجام ہونا۔ 'شاگرد کے گناہ کو اس کا استاد پاتا ہے۔"      ( ١٨٦٦ء، لال چندر کا، ١٧ ) ٦ - جاننا، سمجھنا، چشمِ بصیرت سے دیکھنا۔  بنانے سے یہ مطلب ہم نے پایا مٹانے کے لیے ہم کو بنایا      ( ١٨٦٥ء، نعیم دہلوی، دیوان، ٨٧ ) ٧ - نصیب ہونا، ملنا۔  مِٹا کر مجھے سخت پچھتائیے گا پھر ایسا بھی احمق کہاں پائیے گا      ( ١٩٤٢ء، سنگ و خشت، ٢ ) ٨ - (صفات میں) ہم سری حاصل کرنا، برابر پہنچنا، برابری کرنا۔  کیا پائے کوئی فتنہ تری شوخ ادا کو استاد ہے ایسی کہ سکھاتی ہے قضا کو      ( ١٩١٥ء، جانِ سخن، ٢٧ ) ٩ - [ ہندو ]  بھوجن کرنا، کھانا۔  تو ہے چھن تہاں سِو پاوت دیکھا پالنا نکٹ گئی تہاں دیکھا      ( وشرام، شبد ساگر، ٢٩٤٩:٦ ) ١٠ - سراغ لگانا، کھوج لگانا، ڈھونڈ نکالنا۔  پوشیدہ ہوں جس طرح ارادہ ترے دل کا ڈھونڈے بھی اگر کوئی مجھے پا نہیں سکتا      ( ١٨٦٥ء، نعیم دہلوی، دیوان، ٦٣ ) ١١ - (جانچنے یا امتحان لینے کے بعد) انکشاف کرنا، معلوم کرنا۔ 'تم کو جیسا سنا تھا ویسا ہی پایا۔"      ( ١٩٦٩ء، شبدساگر، ٢٩٤٨:٦ )

اشتقاق

سنسکرت میں 'پراپن ین' سے ماخوذ اردو میں 'پانا' بطور فعل مستعمل ہے اور سب سے پہلے ١٥٢٤ء میں 'دیوانِ شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - سکنا۔ 'کیا مجال کہ آدمی ٹھہرنے پائے۔"      ( ١٩٢٦ء، نوراللغات، ١٧:٢ ) ١ - حاصل کرنا، لینا، وصول کرنا؛ اپنے قبضے میں کرنا، اپنے استعمال میں آنے کی حالت میں کرنا۔ 'تم نے کہاں پائے یہ بیس روپئے۔"      ( ١٩٣٢ء، میدانِ عمل، ١٥ ) ٢ - (کھوئی ہوئی یا غائب چیز کا) دستیاب ہونا، کسی کو دی ہوئی چیز واپس ملنا۔ 'یہ کتاب تم سے ہم نے تین برس کے بعد پائی ہے۔"      ( ١٩٦٩ء، شبدساگر، ٢٩٤٨:٦ ) ٤ - کسی شخص یا شئے تک پہنچنا، جا لینا، پاس پہنچ جانا۔ 'عشرت اور انیلاجیت کے نشان کے قریب پہنچ چکی تھیں کہ رام کلی اور پیاری نے انہیں پا لیا۔"      ( ١٩٥٤ء، شاید کہ بہار آئی، ٨٦ ) ٥ - نصیب ہونا، انجام ہونا۔ 'شاگرد کے گناہ کو اس کا استاد پاتا ہے۔"      ( ١٨٦٦ء، لال چندر کا، ١٧ ) ١١ - (جانچنے یا امتحان لینے کے بعد) انکشاف کرنا، معلوم کرنا۔ 'تم کو جیسا سنا تھا ویسا ہی پایا۔"      ( ١٩٦٩ء، شبدساگر، ٢٩٤٨:٦ )

اصل لفظ: پراپنِین